جاوید احمد غامدی کی ابتدائی زندگی
[جناب جاوید احمد غامدی کے زیر نظر سوانح ان کی اپنی تحریروں سے مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ تحریریں ان کے جذبات و احساسات اور حالات و وقائع کا مرقع ہیں اور ان کی کتاب ’’مقامات‘‘ میں شامل ہیں۔] جناب جاوید احمد غامدی کی پیدایش۷ اپریل ۱۹۵۲ء کو پنجاب کے ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا قصبہ داؤد تھا۔ جاوید احمد غامدی کے والد محمد طفیل جنیدی اپنے آبائی پیشے زمین داری سے وابستہ تھے۔ انھیں اپنے والد نور الٰہی کی وفات کے بعد طب سے شغف ہوا اور باقی زندگی وہ اسی کام میں مگن رہے۔ محمد طفیل جنیدی تصوف کی راہ کے مسافر تھے۔ بیس بائیس سال کی عمر میں اس وادی میں قدم رکھا اور پھر پوری زندگی وفاداری بشرط استواری کی تصویر بنے رہے۔ان کی وفات ۱۹۸۶ میں ہوئی۔
جاوید احمد غامدی کی ابتدائی تعلیم
[جناب جاوید احمد غامدی کے زیر نظر سوانح ان کی اپنی تحریروں سے مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ تحریریں ان کے جذبات و احساسات اور حالات و وقائع کا مرقع ہیں اور ان کی کتاب ’’مقامات‘‘ میں شامل ہیں۔]
جناب جاوید احمد غامدی نے ابتدائی تعلیم پاک پتن اور پکاسدھار (ضلع ساہیوال) کے پرائمری اسکولوں سے حاصل کی۔اسکول کی تعلیم کے دوران میں انھوں نے مولوی نور احمد صاحب سے عربی اور فارسی پڑھنے کا آغاز کیا۔ یہ آغاز کیسے ہوا اور اس سلسلے میں کیا کیا پڑھا گیا، اس کی تفصیل غامدی صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اس طرح بیان کی ہے:
’’میں اسکول میں پڑھتا تھا، لیکن والد اِس پر مطمئن نہ تھے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اِس کے ساتھ عربی، فارسی اور سنسکرت بھی سیکھوں۔ اِس کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اِسی دوران میں اُنھوں نے پاک پتن کے نواح میں واقع میاں محمد حسین بودلہ کی جاگیر پر ملازمت کرلی۔ دو تین مہینے وہاں کام کرنے کے بعد وہ مطمئن ہوگئے تو والدہ نے بھی اُن کے ساتھ میاں صاحب کے گاؤں3 منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ گاؤں سمہ سٹہ جانے والی ریلوے لائن کے اسٹیشن پکاسدھار سے دو ڈھائی میل کے فاصلے پر تھا۔ مجھے پاک پتن کے ایم۔ سی پرائمری اسکول سے اٹھا کر پکاسدھار کے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ یہ ایک ہی کمرے کا اسکول تھا جس میں ٹاٹ بھی نہیں تھے۔ ہم ریلوے لائن کے ساتھ بیابان کی جھاڑیوں سے شاخیں توڑتے، اُن کے پتوں سے فرش کی صفائی کرتے اور اُنھی پر بیٹھ جاتے تھے۔ گاؤں میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ والد اُس میں نماز کے لیے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ مولوی نور احمد صاحب اُس مسجد کے امام اور خطیب تھے۔ اب جو کچھ یاد ہے، اُس سے یہی خیال ہوتا ہے کہ اُن کا تعلق غالباً دیوبندی مسلک سے تھا۔ والد نے اُن سے میری تعلیم کی بات کی تو اُنھوں نے فرمایا: عربی، فارسی تو اِسے میں پڑھا دوں گا۔ والد بے حد خوش ہوئے۔ پھر والدہ کے مشورے سے فیصلہ کیا گیا کہ اسکول سے آنے کے بعد میں تھوڑی دیر کے لیے آرام کروں گا۔ اِس کے بعد عصر کی نماز کے لیے مسجد جاؤں گا اور مغرب تک مولوی صاحب مجھے فارسی، عربی پڑھائیں گے۔
ہم 3 گئے تھے تو میں تیسری جماعت میں تھا۔ پانچویں تک مولوی نوراحمد صاحب سے پڑھنے کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اُنھوں نے مجھے ’’شرح جامی‘‘ تک عربی اور ’’پندنامہ‘‘ شیخ عطار تک فارسی پڑھائی۔ پانچویں جماعت کے امتحانات ہونے کو تھے کہ والد کسی بات پر میاں صاحب سے ناراض ہوئے اور ملازمت چھوڑ کرواپس پاک پتن آگئے۔ مجھے بھی آنا پڑا، لہٰذا مولوی صاحب سے میری تعلیم بھی اِس کے ساتھ ہی منقطع ہو گئی۔ تاہم شوق ختم نہیں ہوا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ شوق در ہر دل کہ باشد رہبرے درکار نیست، میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود ہی کسی استاد تک پہنچ جاتا اور اُس کی رہنمائی میں درس نظامی کی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ نویں جماعت تک میں نے فنون کی تمام کتابیں ختم کر لیں۔ ‘‘اب دسویں کا امتحان درپیش تھا، اِس لیے پوری توجہ اُس کی طرف مبذول ہو گئی اور عربی تعلیم کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گیا۔‘‘
میٹرک اور شوق مطالعہ
جاوید احمد غامدی چھٹی جماعت میں اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن میں اخل ہوگئے اور وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے زمانے میں مطالعے سے ان کی دل چسپی بہت بڑھ گئی تھی۔ انھوں نے پرنسپل سے درخواست کی کہ انھیں جماعت کی حاضری سے مستثنیٰ کر دیا جائے اور شب و روز مطالعے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پرنسپل نے کمال شفقت سے اس کا بندوبست کر دیا۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’دسویں کا سال شروع ہوا تو فلسفہ، تصوف، ادب اور تاریخ کی کتابیں دیکھنے سے میری دل چسپی بہت بڑھ چکی تھی۔ یہ والد اور اُن سے ملنے والوں کی صحبت کا اثر تھا۔ اِن مضامین کی کوئی کتاب مل جاتی تو ختم کیے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ اِس کے لیے وقت بھی تھا۔ اسکول کی مصروفیت، البتہ کسی حد تک رکاوٹ بنتی تھی۔ مجھے خیال ہوا کہ اِس سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا کرنی چاہیے۔ اِسی شوق میں ایک دن اپنے استاد اور اسکول کے صدر مدرس سیدشیر محمد صاحب سے میں نے درخواست کی کہ مجھے اسباق میں حاضری سے مستثنیٰ کر دیا جائے۔ میں پوری یک سوئی کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے ہاسٹل میں ایک کمرا دے دیں تو دسویں کے نتیجے سے بھی ان شاء اللہ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ سید صاحب بڑی غیرمعمولی شخصیت کے استاد تھے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے مان گئے۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد اُنھوں نے فرمایا: میرے اعتماد کو ٹھیس تو نہیں پہنچاؤ گے؟ میں نے اطمینان دلایا تو اُنھوں نے اگلے ہی دن یہ سہولت فراہم کر دی، بلکہ اِس کے ساتھ ایک مزید عنایت یہ کی کہ اسکول کی لائبریری سے میرے ذوق کی تمام کتابیں بھی اُسی کمرے میں منتقل کر لینے کی اجازت دے دی۔ یہ گوشۂ چمن تو نہیں تھا، مگر ’فراغتے و کتابے‘ کی ہر صورت میسر ہو گئی تھی۔ دسویں کے امتحانات تک میں اُسی کمرے میں رہا۔‘‘
کالج کا زمانہ
اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد جناب جاوید احمد غامدی گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو گئے اور وہاں سے ۱۹۷۲ میں بی۔ اے اوراس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز(حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔ کالج کے زمانے کی تصویر کشی کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’دسویں کے بعد میں لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا۔ فلسفہ اور انگریزی ادب میرے اختیاری مضامین تھے۔ بی۔ اے کے ساتھ آنرز کے لیے بھی میں نے انگریزی ادب ہی کا انتخاب کیا۔ گورنمنٹ کالج اُس زمانے میں علم و ادب کے درخشندہ ستاروں کی کہکشاں بنا ہوا تھا۔ پروفیسر مرزا منور، صابر لودھی، غلام الثقلین نقوی، ملک بشیر الرحمن، پروفیسر سراج، پروفیسر سعید شیخ، پروفیسر بختیار حسین صدیقی اور ڈاکٹر محمد اجمل جیسے علما و ادبا کی صحبتیں طالب علموں کو میسر تھیں۔ پروفیسر اشفاق علی خان کالج کے پرنسپل تھے۔ پڑھنے والوں کے لیے کالج میں ایک بہت اچھی لائبریری تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری اور پنجاب پبلک لائبریری بھی زیادہ دور نہ تھیں۔ اُس زمانے کا لاہور خود ایک جہان علم تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابوالخیر مودودی، مولانا حنیف ندوی، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا عطاء اللہ حنیف، ڈاکٹر صوفی ضیاء الحق، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، پروفیسر علم الدین سالک، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، فیض احمد فیض، شورش کاشمیری، حفیظ جالندھری، عابد علی عابد، احسان دانش اور احمد ندیم قاسمی جیسے اساطین علم و ادب زندہ تھے اور آدمی جب چاہے، اُن سے استفادے کے لیے اُن کی خدمت میں حاضر ہو سکتا تھا۔
اِن میں سے بعض بزرگ تدریس کے لیے بھی آمادہ ہو جاتے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر صوفی ضیاء الحق صاحب سے میں نے درخواست کی تو اُنھوں نے ’’مقامات ہمدانی‘‘ اور مولانا عطاء اللہ صاحب حنیف نے ’’دارمی‘‘ کا کچھ حصہ پڑھا دیا۔ مولانا اہل حدیث کے ایک جلیل القدر عالم اور ڈاکٹر صاحب عربی زبان و ادب کے ایک جید عالم اور محقق تھے۔ اُن کے والد مولانا اصغر علی روحی شبلی و فراہی کے استاد اور ’’حماسہ‘‘ اور ’’سبع معلقات‘‘ کے شارح ادیب الہند مولانا فیض الحسن سہارن پوری کے تلمیذ رشید تھے۔ ڈاکٹر صاحب زبان و ادب کی اِسی روایت کے امین تھے۔
میں گورنمنٹ کالج میں کم و بیش پانچ برس رہا۔ میرا معمول تھا کہ صبح گھر سے نکلتا، کالج کے اسباق میں شامل ہوتا، پھر شام تک کسی لائبریری میں بیٹھا رہتا یا لائبریری سے اٹھ کر اِن بزرگوں کی صحبت میں پہنچ جاتا تھا۔ نئی کتابوں کے لیے فیروزسنز اور یونائیٹڈ پبلشرز میں یہ سہولت تھی کہ آدمی جب تک چاہے پڑھتا رہے، دکان کے لوگ بالعموم کوئی مداخلت نہیں کرتے تھے۔ میں اِن دکانوں پر بھی جاتا اور گھنٹوں کتابیں دیکھتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں بعض کتابیں لکھنے کے منصوبے بنائے، کچھ لکھا بھی، لیکن یہ زیادہ تر منصوبے ہی رہے۔ شعر کہنے کا رجحان بچپن سے تھا۔ وہ اُس زمانے میں بھی کہے اور اُن میں سے کچھ فیروزسنز کے انگریزی ماہنامہ ’’پاکستان ریویو‘‘ کے ۱۹۶۸ء، ۱۹۶۹ء کے شماروں اور بعض دوسرے مجلوں میں شائع بھی ہو گئے، مگر زیادہ توجہ پڑھنے کی طرف رہی۔ لہٰذا کالج کے شب وروز اِسی عیش میں گزر گئے۔‘‘
عملی جدوجہد کا آغاز
کالج کے زمانے میں جناب جاوید احمد غامدی نے چند دوستوں سے مل کر ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز کی حیثیت سے کام کرے۔ اِسی کے تسلسل میں ایک دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ بھی تھا۔ خیال تھا کہ اِس دارالعلوم سے جو لوگ پڑھ کر نکلیں، آیندہ کے لیے تحریک کی قیادت اُنھی میں سے منتخب کی جائے اور اس طرح وہ خامی دور کر دی جائے جو جماعت اسلامی کی تحریک میں باقی رہ گئی ہے۔ ’’دائرۃ الفکر‘‘ کو بعد ازاں ’’دارالاشراق‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے دوستوں کی یہ جدوجہد تین چار سال تک جاری رہی، مگر مالی اور افرادی وسائل کی کمیابی کی وجہ سے ادارہ بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہا۔ اس کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’میں نے جس دور میں شعور کی آنکھ کھولی، وہ اسلامی انقلاب کے لیے قائم ہونے والے اداروں اور تنظیموں کا دور تھا۔ انسان اپنے گردوپیش سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں نے بھی ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن میں یار عزیز ڈاکٹر ساجد علی سب سے نمایاں تھے۔ وہ اِس وقت پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے سربراہ ہیں۔ لنک میکلوڈ روڈ پر میرے پاس کرایے کا ایک کمرا تھا۔ ماہنامہ ’’خیال‘‘ کے نام سے میں وہاں سے ایک رسالہ شائع کرنا چاہتا تھا۔ اِس ادارے کی ابتدا اِسی کمرے سے ہوئی۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز اور مرکز قیادت کی حیثیت سے کام کرے۔ اِس کے بعد ایک دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ اِس دارالعلوم سے جو لوگ پڑھ کر نکلیں، آیندہ کے لیے تحریک کی قیادت اُنھی میں سے منتخب کی جائے۔ یہ ایک رومانوی تصور تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی جماعت میں جو خامی رہ گئی ہے، وہ اِسی طرح دور کی جاسکتی ہے۔ دو تین ماہ تک ہم لنک میکلوڈ روڈ کے اِس کمرے میں ملتے اور پڑھتے پڑھاتے رہے، لیکن اندازہ ہوا کہ پیش نظر مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اکٹھے گزارنا ضروری ہے۔ چنانچہ اُن دوستوں نے، جو ہاسٹل میں رہتے تھے، فیصلہ کیا کہ وہ ہاسٹل چھوڑ دیں گے اور اپنا سب جیب خرچ اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے ملنے والی رقم ملا کر ایک مکان کرایے پر لیں گے، جہاں اِس تحریک کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ میرا گھر اُس زمانے میں لاہور ریلوے اسٹیشن کے پاس محلہ سلطان پورہ میں تھا۔ تلاش شروع ہوئی تو ایک مکان قریب ہی مل گیا اور یہ سب دوست وہاں منتقل ہو گئے۔
ہم جو دارالعلوم قائم کرنا چاہتے تھے، اُس کا نام ہم نے ’’جامعہ الحمرا‘‘ تجویز کیا تھا۔ اِس کی رعایت سے ’’الحمرا‘‘ کے نام سے ایک مجلہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوستوں کے مشورے سے طے ہوا کہ اِس کے لیے کتابت کے بجاے ٹائپ پر چھاپنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں حروف جوڑ کر عبارت تیار کی جاتی ہے۔ جن لوگوں کو اِس طریقۂ طباعت کا تجربہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ اِس میں پروف کی غلطیاں بہت ہوتی تھیں جنھیں دقت نظر سے درست کرنا پڑتا تھا۔ ہمارے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ پروف دیکھ کر ہم پریس والوں کے حوالے کر آئے اور مطمئن ہو گئے کہ غلطیوں کی تصحیح ہو جائے گی۔ مگر مجلہ چھپ کر آیا تو معلوم ہوا کہ جن غلطیوں کی نشان دہی کی گئی تھی، اُن میں سے کوئی غلطی بھی درست نہیں ہوئی۔ اب اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اُسے ضائع کر دیا جائے۔ یہ پہلا حادثہ تھا جس سے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث دوچار ہونا پڑا۔ ابھی اِس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور افتاد آپڑی۔ چند ہی مہینوں کے بعد ہمیں وہ مکان خالی کرنا پڑا جس میں اپنی تحریک کا ایک مرکز ہم نے قائم کر لیا تھا۔ نیا مکان کئی مہینوں کی تگ و دو سے ملا۔ یہ ماڈل ٹاؤن کے جے بلاک میں ۲۹ نمبر مکان تھا۔ ہم نے خدا کا شکر کیا کہ تعطل کا زمانہ زیادہ طویل نہیں ہوا اور کام ایک مرتبہ پھر شروع ہوگیا ہے۔
۱۹۷۱ء کے جون میں ہماری ملاقات لاہور کے ایک ایڈووکیٹ چودھری محمد انور صاحب سے ہوئی۔ اُن کے ایک بزرگ دوست سید بدر بخاری بھی اِس ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔ یہ دونوں ہمارے پروگرام سے بہت متاثر ہوئے۔ اُن کی تجویز تھی کہ اِس کام کو آگے بڑھانے کے لیے علامہ اقبال روڈ پر اُن کے محلے میں درس قرآن کا ایک حلقہ قائم کیا جائے۔ ۷؍جولائی کو یہ حلقہ قائم ہوا اور اِس کے نتیجے میں ہم طالب علموں کو چند بڑوں کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ اِن میں سید ارشد بخاری اور شیخ محمد ارشد سب سے نمایاں تھے۔ یہ دونوں دوست تھے اور واپڈا میں ملازمت کرتے تھے۔ اِس سے پہلے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے درسوں میں بڑی باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اِن دونوں کو’’ ارشدین‘‘ کہا کرتے تھے۔ ڈیڑھ دوبرس تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اب کافی لوگ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار تھے۔ لہٰذا سیدبدربخاری کی امارت میں تحریک کا باقاعدہ نظم قائم کر دیا گیا۔ اہل حدیث کے ایک ممتاز عالم مولانا عبدالرحمن صاحب مدنی ہمارے قریب ہی رہتے تھے۔ وہ بھی اُس میں شامل ہو گئے۔ درس کے بعض دوسرے شرکا نے بھی اُس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ بدربخاری صاحب عمر کے اُس حصے میں تھے کہ اِس طرح کے کسی نظم کی قیادت اُن کے لیے آسان نہ تھی۔ لہٰذا چند مہینوں کے اندر ہی باہمی مشورے سے یہ تنظیم ختم کر دی گئی۔
مارچ ۱۹۷۳ میں ہم نے ’’دائرۃ الفکر‘‘ سے ایک مجلہ ’’اشراق‘‘ کے نام سے چھاپا۔ ہمارا خیال تھا کہ ڈیکلریشن مل جائے گا تو اِسے ایک باقاعدہ رسالے کی صورت دے دیں گے اور اِس کے ذریعے سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں گے، لیکن بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ ڈیکلریشن ملنا آسان نہیں ہے۔ اِس لیے یہ اسکیم روبہ عمل نہ ہو سکی۔ اِس کے چند ماہ بعد ہمارے مالک مکان نے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ اُس وقت کے حالات میں ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ اُس کا مطالبہ پورا کرتے، اِس لیے ماڈل ٹاؤن کا یہ مکان بھی چھوڑنا پڑا۔ اِس کے بعد کئی مہینے تک ہم لوگ منتشر رہے۔ ادارہ بھی معطل رہا۔ خداخدا کر کے گارڈن ٹاؤن کے احمد بلاک میں ایک مکان ملا۔ دوست جمع ہوئے، سازو سامان درست کیا گیا اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
ہمارے بعض دوستوں کو ’’دائرۃ الفکر‘‘ کا نام پسند نہیں تھا۔ چنانچہ اِس کی جگہ ادارے کے لیے ’’دارالاشراق‘‘ کا نام اختیار کیا گیا۔ ابتدا میں جو طالب علم اِس سے متعلق ہوئے تھے، اُن میں سے میں اور ساجد علی ہی باقی تھے۔ شیخ افضال احمد، مستنصرمیر، چودھری الیاس احمد اورچودھری محمد رفیق نئے رفقا تھے۔ ہمارے دوست ذوالفقار احمد خاں بھی اِسی دور کی یادگار ہیں۔ وہ ہمارے قریب ہی رہتے تھے، اور اگرچہ ادارے سے متعلق نہیں تھے، مگر اُسی کے ایک فرد سمجھے جاتے تھے۔ یہی معاملہ اصغرنیازی اور محمد طارق میکن کا بھی تھا۔ یہ دونوں دوستانہ تعلق سے ہمارے پاس مقیم تھے۔‘‘
مولانا مودودی سے تعارف
جناب جاوید احمد غامدی اسکول ہی کے زمانے میں مولانا مودودی سے متعارف ہو گئے تھے۔ یہ تعارف بعد میں ’’جماعت اسلامی‘‘ کی رکنیت میں تبدیل ہو گیا۔یہ رکنیت کچھ عرصہ قائم رہنے کے بعد ختم ہو گئی۔ تاہم اس کے باوجود مولانا مودودی کے ساتھ ان کا تعلق خاطر ان کی زندگی میں بھی قائم رہا اور آج بھی قائم ہے۔ اس تعلق کی داستان انھی کی زبانی سنیے۔ لکھتے ہیں:
’’پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرلینے کے بعد آگے کی تعلیم کے لیے میں اسلامیہ ہائی اسکول میں آگیا تھا۔ یہاں غالباً چھٹی یا ساتویں کے زمانے میں نصیرالدین صاحب ہمایوں سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ ہمیں تاریخ پڑھاتے تھے۔ یہ اِس لحاظ سے بڑی اہم ملاقات تھی کہ پہلی مرتبہ اُنھی کی وساطت سے مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کے نام اور کام سے میرا تعارف ہوا۔ مولانا کی تمام کتابیں میں نے اُن سے لے کر پڑھیں۔ یہ علم و عمل کی ایک نئی دنیا تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا سالانہ اجتماع اُنھی دنوں داؤد گارڈن، داروغہ والا میں منعقد ہوا۔ ہم چند دوست بھی اسلامیہ ہائی اسکول سے ہمایوں صاحب کے ساتھ اِس اجتماع میں شرکت کے لیے لاہور آئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کو میں نے پہلی مرتبہ اِسی اجتماع کے موقع پر دیکھا۔ کیا دل نواز شخصیت تھی۔ لگتا تھا کہ اِس کی صورت گری میں حسن فطرت کی ہر چیز کام آگئی ہے۔ بعد میں اُن سے ملنے اور بہت قریب رہ کر اُن کو دیکھنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ علم و عمل، حسن اخلاق، دانش و بصیرت اور جرأت و عزیمت کے لحاظ سے جن شخصیتوں کے نام اُن کے ساتھ لے سکتے ہیں، وہ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ یہ صرف میرا تاثر نہیں ہے۔ اُنھیں دیکھنے، ملنے، اُن سے ہم کلام ہونے اور اُن کے ساتھ کام کرنے کی سعادت جن لوگوں کو بھی حاصل ہوئی ہے، وہ اِس کی گواہی دیں گے۔‘‘
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی نے اپنے احباب سے مل کر پہلے ’’دائرۃ الفکر‘‘ اور بعد میں ’’دارالاشراق‘‘ کے نام سے عملی جدوجہد شروع کی جو مالی اور افرادی وسائل کی کمی کی وجہ سے بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہی۔ اسی دوران میں مولانا مودودی کو اس کاوش اور درپیش مشکلات کے بارے میں معلوم ہوا ۔ انھوں نے اسے مفید سمجھتے ہوئے اس کام کی سرپرستی قبول کر نے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، بوجوہ یہ سلسلہ زیادہ دیرجاری نہیں رہ سکا۔ مولانا مودودی نے یہ سرپرستی کیسے قبول کی اور پھر کیسے یہ سلسلہ ختم ہوا اور اس دوران میں غامدی صاحب نے مولانا مودودی کی شخصیت کو کیسا پایا، اس کے بارے میں غامدی صاحب بیان کرتے ہیں:
’’اُس زمانے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی خدمت میں بھی اکثر حاضر ہونے کا موقع ملتا تھا۔ ایک روز ملاقات کے لیے گیا تو اِس کام کا بھی ذکر ہوا۔مولانا نے تفصیلات پوچھیں، رفقا سے تعارف حاصل کیا، میں نے اپنی مشکلات بتائیں، وہ موانع بیان کیے جو کام میں تعطل کا باعث بن جاتے تھے اور اُن سے سرپرستی کی درخواست کی۔ مولانا نے میری یہ درخواست ازراہ عنایت قبول فرمالی۔ چنانچہ اُن کی ہدایت کے مطابق ادارے کے لیے میرے اور مولانا کے نام سے ایک مشترک اکاؤنٹ اچھرہ کے حبیب بنک میں کھولا گیا جس میں مولانا نے اپنی جیب سے ماہانہ ایک ہزار روپے جمع کرانے شروع کر دیے۔ احمد بلاک سے ہم لوگ مولانا کے گھر کے پاس اُنھی کی دی ہوئی ایک عمارت ۱۔اے ذیلدار پارک اچھرہ میں منتقل ہوگئے۔ مولانا کا خیال تھا کہ اِسے ’’ادارۂ معارف اسلامی‘‘ کی ایک شاخ یا ایک نئے ادارے کی حیثیت سے منظم کیا جائے گا۔ اِس سے پہلے مولانا ہی کے ایما سے میں ’’جماعت اسلامی‘‘ کا رکن بن چکا تھا، لیکن مولانا کا یہ فیصلہ جماعت کے بعض بزرگوں کو پسند نہیں آیا۔ چنانچہ ایک مہم شروع ہوئی اور سات آٹھ مہینے کے بعد ہی میں نے محسوس کر لیا کہ اِن حالات میں یہاں رہ کر کام کرنا ممکن نہ ہوگا۔ جماعت کی یہ خواہش بھی اسلم سلیمی صاحب نے مجھ تک پہنچا دی تھی کہ ادارہ جس عمارت میں قائم ہے، اُسے وہ الیکشن کا دفتر بنانا چاہتی ہے۔ یہ صورت حال بتا رہی تھی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ لہٰذا ہم نے مشورہ کیا، مولانا سے اجازت چاہی اور چودھری الیاس احمد کی دعوت پر لاہور کے قریب ہی واقع اُن کے گاؤں مریدکے منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ۱۹۷۶ء کے آخر میں ہم یہاں پہنچے اور ۱۱ ؍جنوری ۱۹۷۷ کو جماعت اسلامی پنجاب کے امیر مولانا فتح محمد صاحب کا ایک خط موصول ہوا جس میں اُنھوں نے مطلع کیا تھا کہ جماعت سے میری رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ یہ ایک دو سطروں کی تحریر تھی جس میں بغیر کوئی وجہ بتائے فیصلہ سنا دیا گیا تھا کہ میں اب جماعت کا رکن نہیں رہا۔ میاں طفیل محمد صاحب اُس زمانے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے۔ میں نے اُن کے نام خط لکھا اور اِس فیصلے کے وجوہ معلوم کرنا چاہے، مگر اِس کا کوئی جواب مجھے کبھی نہیں دیا گیا۔
یہ وصل و فصل میرے لیے زندگی کا ایک اہم تجربہ تھا۔ میں نے اِس عرصے میں اپنے عہد کی ایک عظمت کو بہت قریب سے دیکھا، اُن کے ساتھ کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں، اُن سے باتیں کیں، زندگی کے آداب سیکھے، صبروحکمت کا درس لیا، زبان و بیان کی بعض نزاکتیں سمجھیں، ماچھی گوٹ سے پہلے اور بعد میں جو کچھ ہوا، اُس کے بارے میں اُن کا نقطۂ نظر خود اُن کی زبان سے سنا، مولانا اصلاحی کے ساتھ اُن کے علمی اختلافات پر اُن سے تبادلۂ خیالات کیا۔ امام فراہی کے متعلق اُن کے عقیدت مندانہ تاثرات سنے، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر اور علامہ اقبال سے اُن کی محبت کی داستان سنی۔ یہ صحبتیں سرمایۂ حیات ہیں اور میں اب بھی مولانا کو اُسی طرح یاد کرتا ہوں، جس طرح ایک مہجور بیٹا اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔ اُن کی جماعت کو بھی میں اپنی برادری سمجھتا ہوں اور پالیسی اور طرزعمل سے ہزار اختلافات کے باوجود ایسا ہی تعلق خاطر محسوس کرتا ہوں، جس طرح کوئی شخص اپنے خاندان سے محسوس کرتا ہے۔ میرے خلاف مہم میں جو لوگ پیش پیش رہے، وہ شاید مجھے نہیں جانتے تھے، اِس لیے اُن سے بھی کوئی گلہ نہیں ہے۔ میں اُن سے حسن ظن رکھتا ہوں کہ اُنھوں نے جو کچھ کیا، اپنی دانست میں جماعت کی بہتری کے لیے کیا۔ مولانا نے امریکا جانے سے پہلے آخری ملاقات میں مجھ سے کہا تھا: میری عزیز توقعات آپ سے وابستہ ہیں۔ اپنے ناقدین کی بات ہمیشہ توجہ کے ساتھ سنیے، پستی پر اتر آئیں تو ’مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا‘ کا طریقہ اختیار کیجیے، وہ آپ کو مشتعل کرنا چاہیں تو اُن کے افترا اور بہتان طرازی کے باوجود اشتعال میں آنے سے انکار کر دیجیے، اِس کے بعد خدا آپ کے ساتھ ہوگا اور آپ ان شاء اللہ اُنھیں اپنے میدان میں شکست دیں گے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں مولانا کی یہ نصیحت ہمیشہ میرے پیش نظر رہی ہے۔ یہ اِسی کا اثر ہے کہ:
اِس دشت بے چراغ میں کرتا ہوں روز و شب
پیدا ہر اک ببول سے سرو و سمن کو میں‘
مولانا اصلاحی سے تعارف اور تلمذ
۱۹۷۳ میں کالج ہی کے زمانے میں جناب جاوید احمد غامدی مولانا امین احسن اصلاحی سے متعارف ہوئے ۔ مولانا اصلاحی اس وقت اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کی تصنیف کا کام کر رہے تھے۔ غامدی صاحب ان کی شخصیت، ان کے فکر اور ان کے کام سے بے حد متاثر ہوئے ا ور ان سے تلمذ کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
آنرز حصۂ اول کا امتحان پاس کر لینے کے بعد میں اُس کے آخری سال میں تھا کہ امام حمید الدین فراہی کی بعض کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ علم و نظر اور فہم و بصیرت کی ایک حیرت انگیز دنیا تھی جواِن کتابوں کے اوراق پلٹتے ہی سامنے آگئی۔ اِن میں سے کسی کتاب کے دیباچے میں امام کے تلمیذ رشید مولانا امین احسن اصلاحی کا ذکر بھی تھا۔ اُس کے الفاظ غالباً یہ تھے: ’ثانی اثنین اذ ہما یتادبان بآداب الامام الفراہی‘۔ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ مولانا سے ملاقات کی جائے۔ ’’اسلامی جمعیت‘‘ کے ایک دوست نے بتایا کہ وہ لاہور سے باہر کسی گاؤں میں مقیم ہیں۔ اتنا معلوم تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا بھی اُن سے کچھ تعلق ہے۔ ڈاکٹر صاحب اُس زمانے میں کرشن نگر کے کسی محلے میں مطب کرتے اور وہیں رہتے تھے۔ میں لائبریری سے اٹھا اور پوچھتے پوچھتے اُن کے گھر پہنچ گیا۔ ڈاکٹر صاحب مطب کے پچھلے کمرے میں اپنے احباب سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے مولانا کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ حسن اتفاق سے وہ آج ہی اپنے گاؤں رحمن آباد سے آئے ہیں اور اِس وقت اپنے داماد نعمان علی صاحب کے ہاں واپڈا کالونی میں ٹھیرے ہوئے ہیں۔ میرے پاس سائیکل تھی۔ میں نے پتا سمجھا اور واپڈا کالونی کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو مغرب کا وقت ہورہا تھا۔ راہ چلتے ایک صاحب سے رہنمائی چاہی تو اُنھوں نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ مولانا نماز کے لیے باہر نکل رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ یہ استاذ امام سے میری پہلی ملاقات تھی۔ مولانا غالباً دو ہفتے لاہور میں رہے۔ میں روزانہ ملاقات کے لیے حاضر ہوتا اور ایک نئی دنیا کی سیر دیکھ کر لوٹتا۔ استاذ امام کے ساتھ یہی ملاقاتیں ہیں جن سے پہلی مرتبہ شرح صدر ہوا کہ دین محض مان لینے کی چیز نہیں ہے، اُسے سمجھا اور سمجھایا بھی جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت واضح ہوئی کہ قرآن ایک قول فیصل ہے، دین و شریعت کی ہر چیز کے لیے میزان ہے، پورے عالم کے لیے خدا کی حجت ہے۔ اِس کی روشنی میں ہم حدیث و فقہ، فلسفہ و تصوف اور تاریخ و سیر، ہر چیز کا محاکمہ کر سکتے ہیں۔
یہ میرے لیے ایک نئے قرآن کی دریافت تھی۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے طریقے پر قرآن کا طالب علم بننا چاہتا ہوں۔ اپنی تعلیم کا کچھ پس منظر بتا کر پوچھا کہ اِس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟ مولانا نے مختلف علوم و فنون کی امہات کتب کی ایک لمبی فہرست بتائی جنھیں پڑھنے، سمجھنے اور دل و دماغ میں اتارنے کے لیے برسوں کی محنت چاہیے تھی۔ مولانا نے فرمایا: اِس طریقے سے پڑھنا چاہتے ہو تو لیڈری کے خیالات ذہن سے نکال کر علم و نظر اور فکر و تدبر کے لیے گوشہ گیر ہونا پڑے گا۔ یہ فیصلہ کرو کہ تمھارا سایہ بھی ساتھ نہ دے تو حق پر قائم رہو گے۔ ہمارے مدرسۂ علمی میں کوئی شخص اِس عزم و ارادہ کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا۔
یہ آخری دن تھا۔ اِس سے اگلے روز مولانا گاؤں واپس جا رہے تھے۔ میں نے دل و دماغ کا جائزہ لیا، نتائج و عواقب کا اندازہ کیا اور اُسی روز فیصلہ کر لیا کہ کالج کو الوداع کہہ کر میں کل ہی مولانا کے مدرسۂ علمی میں داخل ہو جاؤں گا اور اِس کے لیے جیسا علم چاہیے، اُسے حاصل کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھوں گا۔
میری طالب علمی کا دوسرا دور اِسی سے شروع ہوا۔ یہ ۱۹۷۳ء کی ایک شام تھی۔ اِس کے بعد یہ سلسلہ کم و بیش دس سال تک جاری رہا۔ اِس دوران میں مولانا نے خود بھی پڑھایا۔ سورۂ زخرف سے آخر تک قرآن مجید، موطا امام مالک، قرآن و حدیث پر تدبر کے اصول و مبادی اور فلسفۂ جدید کے بعض مباحث اُن کے طریقے پر اُنھی سے پڑھے۔ مولانا فرماتے تھے کہ پڑھے کم لکھے زیادہ لوگ اِس زمانے میں بہت ہو گئے ہیں۔ اُن کا ارشاد تھا کہ قلم اُس وقت اٹھایے، جب کوئی نئی حقیقت سامنے آئے۔ چنانچہ طالب علمی کے اِس دور میں لکھنے کی ہمت کم ہی ہوئی۔ میں شعر کہتا تھا، نثر لکھنے سے مجھے کچھ زیادہ دل چسپی بھی نہیں تھی۔ تاہم چند چیزیں اردو اور عربی زبان میں قلم سے نکلیں، لیکن وہ ایسی ہی تھیں، جیسی کسی نوآموز لکھنے والے کی ہو سکتی ہیں۔ ‘‘
غامدی صاحب کے کاموں سے تعارف
جناب جاوید احمد غامدی نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد ۱۹۸۳ میں اپناعلمی و تحقیقی کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی تفصیل انھوں نے اپنی کتاب ’’مقامات‘‘ میں اس طرح بیان کی ہے:
’’۱۹۸۳ء میں تعلیم کا یہ مرحلہ ختم ہوا تو میرے معتقدات کی دنیا میں ایسا اضطراب پیدا ہو چکا تھا کہ ہر چیز اپنی جگہ چھوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ فقہ، اصول فقہ، تصوف، علم کلام، سب قرآن میں اپنی بنیادیں تلاش کر رہے تھے۔ دین کی صحیح تعبیر کیا ہے؟ اِس سوال کے جتنے جوابات ابھی تک سامنے تھے، وہ سب اعتراضات کی زد میں تھے۔ میرے تصورات کا قصر منہدم ہو چکا تھا اور نئی تعمیر اب نئے بندوبست کا تقاضا کر رہی تھی۔ اگلے سات سال اِسی بندوبست کی نذر ہو گئے۔ اِس عرصے میں، معلوم نہیں، کتنی وادیاں قطع کیں، کتنے راستے ڈھونڈے، کتنے موڑ مڑے، کتنے پتھر الٹے، اور پاؤں کے آبلوں سے کہاں کہاں کانٹوں کی پیاس بجھائی۔ یہ عجیب سفر تھا۔ ایک کے بعد دوسری منزل گزر رہی تھی اور کچھ معلوم نہ تھا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے۔ فیضی نے غالباً اِسی طرح کی صورت حال میں کہا تھا:
کس نمی گویدم از منزل اول خبرے
صد بیاباں بہ گذشت و دگرے درپیش است
اِس زمانے میں اگر کچھ لکھا بھی تو کسی ضرورت کے تحت۔ بت کدۂ تصورات میں ’تراشیدم، پرستیدم، شکستم‘ کی جو صورت پیدا ہو گئی تھی، اُس میں دوسروں سے کیا کہا جائے؟ یہ دور اِسی طرح گزر گیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۰ء میں جا کر وہ زمین کہیں ہموار ہوئی، جہاں نئی تعمیر کے لیے نیو ڈالی جائے۔ زندگی کے چالیس سال پورے ہونے کو تھے۔ فکرو خیال میں بڑی حد تک وضوح پیدا ہوچکا تھا اور نقشۂ کار بھی واضح تھا۔ میں نے تصنیف و تالیف کا ایک پروگرام ترتیب دیا اور اِس کے مطابق کام کی ابتدا کر دی۔ پچھلے سترہ سال سے اِسی کے مطابق کام کر رہا ہوں۔ بہت کچھ ہو چکا اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال رہی تو یہ بھی ہو جائے گا۔ چند دن پہلے ’’میزان‘‘ پایۂ تکمیل کو پہنچی تو خیال ہوا کہ اِس موقع پر یہ داستان سنا دی جائے۔ اِسی تقریب سے اپنے کام کا نقشہ یہاں بیان کر رہا ہوں۔ یہ کتابیں ہیں جن میں سے کچھ لکھی جا چکی اور کچھ زیر تصنیف ہیں:
۱۔ البیان
قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر ہے۔
۲۔ میزان
اسلام کو میں نے جس طرح سمجھا ہے، یہ اُس کا بیان ہے۔
۳۔ برہان
یہ اُن مباحث کی تنقیح کے لیے خاص ہے، جہاں میرا نقطۂ نظر دوسرے علما سے مختلف ہے۔
۴۔ مقامات
پہلی دو کتابوں کے علاوہ جو کچھ لکھا ہے یا لکھنے کا ارادہ ہے، اُس کے منتخبات اِس کتاب میں جمع کرنا پیش نظر ہے۔
۵۔الاسلام
’’میزان‘‘ کا خلاصہ ہے۔
۶۔ علم النبی
۷۔ فقہ النبی
۸۔سیرۃ النبی
یہ تینوں کتابیں احادیث و آثار کی جمع و تدوین اور اُن کے متون کی تنقیح کے لیے ترتیب دینا چاہتا ہوں۔
۹۔ خیال وخامہ
شعر کہتا رہا ہوں، یہ اُن کا مجموعہ ہے۔
’’میزان‘‘ مکمل ہو کر شائع ہو چکی ہے۔ ’’برہان‘‘، ’’مقامات‘‘ اور ’’خیال و خامہ‘‘ بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اِن میں مضامین اور منظومات کا اضافہ، البتہ ہوتا رہتا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں سورۂ نساء تک پہنچا ہوں۔ اِس سے فارغ ہو گیا تو باقی عمر ان شاء اللہ حدیث کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گا۔ زندگی کی تمنا اگر ہے تو اب اِسی کے لیے ہے۔ ابوالکلام کا تصرف قبول کر لیا جائے تو زمانی یزدی کا یہ شعر ہر لحاظ سے حسب حال ہے:
حکایت از قد آں یار دل نواز کنیم
بایں فسانہ مگر عمر خود دراز کنیم‘‘مشن
۱۹۸۳ میں جناب جاوید احمد غامدی نے ’’المورد‘‘ کے نام سے علم و تحقیق کا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی علوم پر علمی و تحقیقی کام ، ان کی نشرو اشاعت اور ان کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام طے کیا گیا۔ یہ ادارہ قائم و دائم ہے۔ غامدی صاحب نے اس کا جو تعارف تحریر کیا ہے ، وہ درج ذیل ہے:
’’یہ ادارہ اِس احساس کی بناپر قائم کیا گیا ہے کہ تفقہ فی الدین کا عمل مسلمانوں کے اندر صحیح نہج پر قائم نہیں رہا۔ فرقہ دارانہ تعصبات اور سیاست کی حریفانہ کشمکش سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کی دعوت مسلمانوں کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ قرآن مجید جو اِس دین کی بنیاد ہے، محض حفظ و تلاوت کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ مذہبی مدرسوں میں وہ علوم مقصود بالذات بن چکے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید تک پہنچنے کا وسیلہ ہو سکتے تھے۔ حدیث، قرآن و سنت میں اپنی اساسات سے بے تعلق کر دی گئی ہے اور سارا زور کسی خاص مکتب فکر کے اصول و فروع کی تحصیل اور دوسروں کے مقابلے میں اُن کی برتری ثابت کرنے پر ہے۔
یہ ادارہ اِس صورت حال کی اصلاح کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ اِس کا بنیادی مقصد اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، تمام ممکن ذرائع سے وسیع پیمانے پر اِس کی نشرواشاعت اور اِس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔
اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے، اُس کے اہم نکات یہ ہیں:
علم و تحقیق
۱۔ دین کے جید علما اور محققین کو ادارے کی فیلوشپ دی جائے۔
۲۔ علمی کام کی صلاحیت رکھنے والے افراد کو ادارے کی طرف سے یا خود اُن کی تجویز پر علمی، تحقیقی، تعلیمی اور دعوتی منصوبے تفویض کیے جائیں اور اِسی بنا پر اُنھیں ادارے سے متعلق کیا جائے۔
۳۔ ادارے میں کام کرنے والے علما اور محققین کو پیش نظر کاموں کے لیے ضروری ماحول، لائبریری اور دوسری سہولتیں فراہم کی جائیں۔
تعلیم و تربیت
۱۔ دینی موضوعات پر سیمینار، ورک شاپ اور مختصر مدت کے کورسوں کا اہتمام کیا جائے۔
۲۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سے فاصلاتی کورس (dl courses) کرائے جائیں۔
۳۔ پیش نظر مقاصد کے لیے تربیت گاہیں اور دینی اور دنیوی علوم کی درس گاہیں قائم کی جائیں۔
نشرواشاعت
۱۔ اردو، عربی اور انگریزی زبان میں رسائل جاری کیے جائیں۔
۲۔ انٹرنیٹ پر اِن زبانوں میں ویب سائٹس قائم کی جائیں۔
۳۔ ادارے سے متعلق اہل علم کی تحقیقات، خطبات اور تقاریر وغیرہ کی طباعت اور آڈیو/ ویڈیو سی ڈی تیار کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
۴۔ ادارے سے متعلق علما و محققین کے کام کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے۔
۵۔ ادارہ اور اِس کے مقاصد کا تعارف لوگوں میں عام کیا جائے۔
’’علم و تحقیق‘‘ اور ’’نشرواشاعت‘‘ کے زیرعنوان جو کام بیان ہوئے ہیں، وہ بڑی حد تک ہو رہے ہیں۔ ’’تعلیم و تربیت‘‘ کے ذیل میں دینی اور دنیوی علوم کی درس گاہیں آیندہ کے منصوبوں میں سرفہرست ہیں۔ میری تمام سعی و جہد کا محور اب یہی ادارہ ہے۔ زندگی کے جتنے دن باقی ہیں، اپنے علمی کاموں کے علاوہ اِسی کے لیے خاص کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے علم و عمل میں اخلاص کی دعا ہے:
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا‘‘
جاوید احمد غامدی صاحب صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں 1951 میں پیدا ہوئے۔ اپنے مقامی سکول سے میٹرک کرنے کے بعد وہ 1967 میں لاہور آئے اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے 1972 میں بی اے آنرز انگریزی ادب اور فلسفے میں کیا۔اپنی ابتدائی زندگی سے اسلامی تعلیمات مختلف اساتذہ اور علما ء سے حاصل کرتے رہے۔1973 میں وہ امین احسن اصلاحی (وفات 1997) کے زیر سرپرستی آئے ( (http://www.amin-ahsan-islahi.com) جن کا ان پر بہت گہرا اثر ہوا۔وہ کافی سالوں تک مشہور عالم اور احیائے دین کے علمبردار ابو الاعلی مودودی(وفات 1979) سے منسلک رہے۔جاوید صاحب نے سول سروسز اکیڈمی میں دو دہائیوں سے زیادہ 1979 تا 1991 تک اسلامیات پڑھائی۔
جاوید احمد غامدی موجودہ المورد اور المورد گلوبل کے بانی صدر ہیں ۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں
البیان (نظم کی رعایت سے قرآن کا ترجمہ اور تفسیر)
میزان
برہان
مقامات
خیال و خامہ
ترجمہ قرآن
باقیاتِ غامدی (زیر طبع)
المورد کی اس سائٹ کے علاوہ جناب جاوید احمد غامدی کی ذاتی ویب سائٹ پر ان کی تمام کتب اور آڈیو وڈیو دروس دستیاب ہیں۔ javedahmadghamidi.com